نوآبادیاتی دور کے علما
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
نوآبادیاتی دور کے علما علما کے عمل کا تیسرا دور وہ ہے جو، ہماری تقسیم کے مطابق، شاہ عبدالعزیز دہلوی (1762-1823) سے شروع ہوتا ہے۔ اورنگ زیب سے لے کر سید احمد بریلوی تک مسلم رہنماؤں کے ذہن پر مرہٹہ اور جاٹ اور سکھ کا مسئلہ چھایا رہا۔ وہ ان داخلی طاقتوں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جہاد میں مشغول رہے۔ بظاہر انہیں اس کا کوئی شعور نہ تھا کہ اصل خطرہ باہر کی نوآبادیاتی قوموں سے ہے جو جدید قوتوں سے مسلح ہو کر نکلی ہیں اور ہندوستان سمیت ساری مسلم دنیا عملاً جن کی زد میں آچکی ہے۔ یہ مغربی طاقتیں ساحل کے راستہ سے داخل ہو کر بندستان میں اپنا نفوذ بڑھاتی رہیں۔ یہاں تک کہ 1803 میں دہلی کا برائے نام بادشاہ براہ راست برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرپرستی protection میں آگیا (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 9، صفحہ 936)۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اس وقت مسلم علما کو اس کی خبر ہوئی۔ اس کے بعد 1806 میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فرنگی جو دولت کے مالک ہیں، انھوں نے دہلی اور کابل کے درمیان فساد برپا کر دیا ہے: وَإِنِّي أَرَى الأَفْرَنْجَ أَصْحَابَ ثَرْوَةٍ لَقَدْ أَفْسَدُوا مَا بَيْنَ دِهْلِي وَكَابُلْ اس کے بعد علما کا سیاسی ٹکراؤ انگریزوں سے شروع ہو گیا۔ افریقہ میں وہاں کے علما اور مصلحین کا ٹکراؤ فرانسیسیوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اس ٹکراؤ کے لیے اول دن سے ہی یہ مقدر تھا کہ وہ ناکام ہو۔ کیوں کہ یہ علما اس مسئلہ کو محض اہل فساد کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ باعتبار واقعہ وہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ اہل مغرب جدید علمی اور عملی قوتوں کے مالک ہو گئے ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے اہل مشرق کے اوپر فیصلہ کن فوقیت حاصل کر لی ہے۔ مثلاً 1853

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader