نوآبادیاتی دور کے علما
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
میں برٹش انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں ریلوے لائن بچھانا شروع کر دیا تھا۔ مگر 1857 میں جہاد آزادی کے لیے اٹھنے والے علما کو اس زمانی تبدیلی کی خبر نہ ہوسکی۔ یہ ٹکراؤ عملی اور اصولی دونوں پہلوؤں سے نادرست تھا۔ عملی اعتبار سے وہ اسے درست نہ تھا کہ یہ لوگ ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو اہلِ اسلام کی یک طرفہ ہلاکت کے سوا کسی اور انجام تک پہنچنے والی نہ تھی۔ کیونکہ علما کے پاس صرف روایتی ہتھیار تھے۔ اور دوسری طرف اہلِ مغرب سائنٹفک ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ گویا اب دونوں فریقوں کے درمیان ماضی کی طرح صرف کمیاتی فرق نہ تھا، بلکہ ان کے درمیان کیفیاتی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ اور جہاں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں جنگی ٹکراؤ چھیڑنا نہ اسلام کے مطابق ہے اور نہ عقل کے مطابق۔ اصولی اعتبار سے، علما کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ سیاسی امور میں عملی طور پر اپنے آپ کو الجھائیں۔ ان کا عملی سیاست میں الجھنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ دوسرے زیادہ بنیادی کام ہونے سے رہ جائیں۔ علما کو ہمیشہ تقسیم کار کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔ یعنی وہ سیاسی نزاعات کو اہل سیاست کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن علمی، دعوتی، اصلاحی اور تعمیری کاموں میں لگا دیں۔ علما اسی کے اہل ہیں، اور ان کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ دورِ اول میں خلافتِ راشدہ کے آخری زمانہ سے لے کر بنو امیہ اور بنو عباس کے آخر زمانہ تک تقریباً چھ سو سال کی مدت ہے۔ اس پوری مدت میں مختلف صورتوں میں داخلی سیاسی لڑائیاں جاری رہیں۔ مگر یہی وہ مدت ہے جب کہ ان تمام علوم کی تدوین عمل میں آئی جن کو اسلامی علوم کہا جاتا ہے۔ سیاسی انتشار کے باوجود یہ تعمیری کام کیوں کر ممکن ہوا۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ علما اور اہل علم کا طبقہ ہمیشہ عملی سیاست سے الگ رہ کر علمی کاموں میں مصروف رہا۔ اس حد بندی نے اہل علم کو یہ موقع دیا کہ سیاسی بگاڑ کے باوجود وہ اپنی قوتوں کو بچا کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader