اجتہاد کی اہمیت
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتہاد کی اہمیت رسول کا زمانہ، صحابہ کا زمانہ اور تابعین کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں معیاری زمانہ ہے۔ اس کو پیغمبر کی حدیث کی بنا پر قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ یہ گویا اسلام کا دور اول ہے۔ اسی دور اول کی روشنی میں بعد کے زمانوں کو جانچا جائے گا، نہ کہ بعد کے زمانہ کی روشنی میں دور اول کو جانچا جانے لگے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں بجاطور پر لکھا ہے کہ دور اول میں اسلامی فقہ موجودہ فنی صورت میں پائی نہیں جاتی تھی اور نہ اس کی باقاعدہ تدوین ہوئی تھی (حجۃ اللہ البالغہ، جلد 1، صفحہ 243)۔ مدون فقہ کا آغاز خلافت عباسیہ کے زمانہ میں ہوا۔ دور اول کی فقہ سادہ اور فطری اسلوب پر تھی۔ بعد کے زمانہ میں اس میں تعمق اور تقصی اور تقسیم کا اضافہ ہوا۔ اس طرح فطری فقہ نے ایک فنی فقہ کی صورت اختیار کر لی۔ فنی فقہ کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیجئے ۔ ایک شخص نے ایک مفتی سے طلاق کے بارے میں سوال کیا۔ سوال یہ تھا کہ فریقین کے درمیان اگر مسلک کا اختلاف ہو، یعنی ایک حنفی ہے اور دوسرا غیر حنفی، ایسی صورت میں قاضی کیا فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ کس طرح ان کے اوپر نافذ ہوگا۔ مفتی نے جواب دیا ۔ امور مجتہد فیہا میں فقہانے قاضی کے فیصلہ کو رافع خلاف قرار دیا ہے۔ یہ کسی سوال کے جواب کا فنی انداز ہے۔ یہ انداز بعد کے زمانہ میں رائج ہوا۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں جواب کے لیے اس انداز کا رواج نہ تھا۔ اس مخصوص اسلوب کو اگر علم فقہ کا لازمی جزء سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ اگر اس فنی اسلوب میں کمال رکھنے والے لوگ موجود نہ ہوں تو کہنے والے کہیں گے کہ فقہی غور و فکر کا دروازہ بند کر دو،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader