ایک صحیح آواز
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
جس نے اس رہنمائی کو لائق توجہ سمجھا ہو۔ اس طرح کی اور بھی بعض انفرادی مثالیں ہیں جب کہ کسی صاحب بصیرت شخص نے علما کو اس طرف دلائی کہ وہ بے فائدہ سیاست کو چھوڑ کر نتیجہ خیز عمل میں اپنی قوتیں لگائیں۔ مگر ایسے اشخاص کی رائے مؤثر نہ بن سکی اور علما کا قافلہ مسلسل اپنی تباہ کن سیاست کی طرف چلتا رہا۔ غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آخری صدیوں میں علما نے تنقید کو ایک مبغوض چیز سمجھ لیا۔ علما کے حلقہ میں تنقید اتنی غیر اہم تھی کہ وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تھے۔ علما کی اکثریت صرف یہ جانتی تھی کہ ہمارے ”اکابر“ کا طریقہ یہی تھا۔ مذکورہ قسم کی انفرادی رائئیں چونکہ اکابر کے اوپر تنقید کے ہم معنی تھیں، اس لیے پہلے ہی مرحلہ میں وہ قابل رد قرار پا گئیں۔ علما کے لیے یہ ناقابل فہم تھا کہ وہ اکابر کے طریقہ پر نظر ثانی کریں اور اس کو غلط بتا کر اپنے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کریں۔ اس کی ایک مثال سید احمد بریلوی کی تاریخ میں ملتی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور مریدوں میں ایک مولانا میر محبوب علی (1280-1200ھ) تھے۔ ان کو سید احمد بریلوی سے اس وقت اختلاف پیدا ہوا جب انھوں نے پنجاب کے سکھ راجہ کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے یہ فیصلہ کشف کی بنیاد پر کیا تھا۔ محبوب علی صاحب نے کہا کہ ”اے میرے سید، جہاد کا مدار مشورہ پر ہے (نہ کہ کشف اور خواب پر)۔ اس کے بعد سید صاحب کے قافلہ کے لوگ محبوب علی صاحب کے سخت مخالف ہو گئے۔ سید احمد بریلوی نے اس کے جواب میں ان کہا” تمہاری اطاعت خاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہیے، ایسی خاموشی جیسی اس پہاڑ کی ہے جو میرے سامنے کھڑا ہے۔“ محبوب علی صاحب نے اس کو نہیں مانا اور سید صاحب کا ساتھ چھوڑ کر اپنے وطن کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے کہا: مَنْ ذَهَبَ مِنْ عِنْدِي إِلَى وَطَنِهِ مُرَاجِعاً فَقَدْ ذَهَبَ إِيمَانُهُ (جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader