Urdu book · فکر اسلامی

ایک صحیح آواز

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص میرے پاس سے اپنے وطن کی طرف لوٹ جائے گا اس کا ایمان اس سے چلا جائے گا) مولاناسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان ، از مولاناشاہ ابوالحسن زید فاروقی ،صفحہ 86-87۔ اسلام میں اجتماعی امور کی بنیاد شوریٰ پر رکھی گئی ہے (الشورى ، 42:38) شوریٰ صحت فیصلہ کی ضمانت ہے۔ مگر صحیح شوریٰ کے لیے تنقید اور اختلاف رائے کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ کے علما کے درمیان چونکہ تنقید اور اختلاف رائے کا ماحول نہیں، اس لیے ان کے یہاں حقیقی شوریٰ کا وجود بھی نہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ جو قوم آباد تھی، وہ شرک کو ماننے والی قوم تھی، شرعی نقطہ نظر سے یہاں علما کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان مشرکین کے درمیان ایک ایسی تحریک اٹھائیں جس کی بنیاد تردید شرک اور اثبات توحید پر قائم ہو۔ اور یہ کام ہرگز مناظرانہ انداز میں نہ ہو بلکہ موعظت حسنہ کے انداز میں ہو۔ وہ نصح اور امانت کے جذبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔ لیکن پچھلے تین سو سال میں کوئی تحریک تو درکنار کوئی ایک عالم بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اس کام کا واضح شعور رکھتا ہو اور اس کام کی اہمیت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرے۔ یہ کام اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعد پوری کی پوری قوم اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کام کو چھوڑ کر دوسرا جو کام بھی کیا جائے گا۔ وہ حبط اعمال کا شکار ہو تا رہے۔ گا وہ کبھی مسلمانوں کی عزت اور سرفرازی کا سبب نہیں بن سکتا۔ اورنگ زیب عالم گیر کے زمانہ میں یہ اہل شرک مسلمانوں کے لیے رعیت کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے درمیان دعوت توحید کا مصلحانہ کام نہایت آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا تھا۔ مگر علما اس موقع کو استعمال نہ کر سکے۔ انھوں نے مشرک قوم کو گمراہی سے نکالنے کے لیے کوئی حقیقی محنت انجام نہیں دی۔ انیسویں صدی کے وسط سے باقاعدہ طور پر انگریزی حکومت کا دور شروع ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page