Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزوں نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان موازنہ قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں اہل اسلام اور اہل شرک کی حیثیت برابر برابرکی ہوگئی۔ اس دوسرے دور میں بھی دعوتی کام کے مواقع پوری طرح موجود تھے۔ مگر علمائے اب بھی ان مواقع کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے برعکس، انھوں نے یہ کیا کہ کچھ علما آزادی ہند کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے اور کچھ علما تقسیم ہند کے جھنڈے کے نیچے ۔ جب کہ یہ دونوں ہی تحریکیں مذکورہ دعوت توحید کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مذکورہ دونوں تحریکیں اپنے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں۔ ایک طرف بھارت کی صورت میں ایک آزاد ملک ظہور میں آیا اور دوسری طرف پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کا قومی ہوم لینڈ۔ مگر دونوں ہی ملکوں میں مذکورہ دعوت کے مواقع کم سے کمتر ہو گئے ۔ بھارت میں اس لیے کہ یہاں اہل شرک نے اکثریت کی بنا پر غالب حیثیت حاصل کر لی اور مسلمان مغلوبیت کی حالت میں چلے گئے۔ پاکستان میں اس لیے کہ دو قومی نظریہ کے نتیجہ میں اہل شرک کی حیثیت ایک حریف گروہ کی ہوگئی نہ کہ مدعو گروہ کی۔ یہ بلاشبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے جو علما کی براہ راست رہنمائی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کی واحد تلافی یہ ہے کہ کھلے دل سے غلطی کا اعتراف کیا جائے اور حال کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اب وہ کام شروع کر دیا جائے جو ماضی کے مواقع میں انجام نہ دیا جا سکا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد علما کی غیرضروری سیاسی اور حربی سرگرمیاں تو مغربی قوموں کو زیر نہ کر سکیں۔ تاہم خود مغربی قوموں کی باہمی جنگ جو دوسری عالمی جنگ (45-1939) کہی جاتی ہے۔ اس نے قوموں کو فوجی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے بیرونی ملکوں پر اپنے سیاسی قبضہ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page