Urdu book · فکر اسلامی

دوسری عالمی جنگ کے بعد

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

باقی رکھنا سخت دشوار ہو گیا۔ چنانچہ انھوں نے بیسویں صدی کے وسط میں ان ملکوں سے اپنا سیاسی قبضہ ہٹالیا۔ اگرچہ ان کا تہذیبی اور اقتصادی غلبہ پھر بھی ان ملکوں پر باقی رہا۔ اس کے نتیجہ میں ایشیا اور افریقہ میں تقریباً پچاس مسلم ملک وجود میں آگئے جو سیاسی اعتبار سے آزاد حیثیت رکھتے تھے۔ یہاں علما کو وہی کردار ادا کرنا تھا جو اسلام میں ان کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔ یعنی سیاست کو اہل سیاست کے حوالے کر کے وہ اپنے آپ کو اشاعتِ علوم، دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تعمیر کے کام میں لگائیں۔ مگر دوبارہ انھوں نے یہ کیا کہ غیر ضروری طور پر وہ سیاست کے میدان میں کود پڑے ۔ پہلے ان کی سیاست کا عنوان ” آزادی “ تھا۔ اب انھوں نے اپنی سیاست کا عنوان قانون اسلامی کے نفاذ کو بنایا۔ مصر، پاکستان، سوڈان، شام، الجزائر، انڈونیشیا، وغیرہ مختلف ملکوں میں علما نے ایسی جماعتیں بنائیں جن کا مقصد اسلامی قانون کی حکومت قائم کرنا تھا۔ اس سیاست نے دوبارہ مسلم ملکوں کو میدان کار زار بنا دیا، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اگر مسلم علما کا ٹکراؤ غیر مسلم قوموں سے تھا تو اب ان کا ٹکراؤ خود مسلمانوں کے ایک طبقہ کے ساتھ پیش آگیا۔ مسلم جماعتیں ہر ملک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگیں۔ علما کی ان کوششوں سے ایسا تو نہیں ہوا کہ کسی مسلم ملک میں خالص شرعی انداز کی حکومت قائم ہو جائے ۔ البتہ اس کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ مسلمان دو گرہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگے۔ پہلے اگر غیر مسلم طاقت مسلمان کو مارتی تھی تو اب خود مسلمان ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہر جگہ مسلم معاشرہ تخریبی سرگرمیوں کا اکھاڑ بن گیا۔ مسلم ملکوں کے علما اگر یہ کرتے کہ وہ عملی سیاست سے الگ رہ کر مسلمانوں کی اصلاح کرتے۔ ان کے اندر اسلام کی روح بیدار کرتے۔ جدید معیار پر اسلامی لٹریچر تیار کر کے مسلم نسلوں کے اندر اسلام کی طلب پیدا کرتے۔ اگر وہ اس قسم کے کام کرتے تو وہ زیادہ بہتر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page