دوسری عالمی جنگ کے بعد
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار ہو سکتے تھے۔ وہ جب مسلم معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنا دیتے تو اس کے بعد اس کے اندر سے جو نظام حکومت ابھرتا وہ یقیناً اسلامی نظام حکومت ہوتا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے نفاذ میں ناکامی کا اصل سبب سیکولر حکمرانوں کا ظلم یا دشمنان اسلام کی سازشیں نہیں ہیں، جیسا کہ اسلام پسند حضرات ہمیشہ کہا کرتے ہیں۔ اس کا اصل سبب خود علم بردارانِ اسلام کی یہ غلطی ہے کہ وہ معاشرہ کو ضروری حد تک تیار کیے بغیر اسلامی قانون کے نفاذ کی مہم لے کر کھڑے ہو گئے۔ پاکستان کا تجربہ واضح طور پر اس کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ بار اسلام پسندوں کو حکومت پر جزئی یا کلی قبضہ کا موقع ملا، مگر وہ کسی بھی درجہ میں وہاں شریعت کو نافذ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مثلاً مفتی محمد محمود کے زمانہ (71-1970) میں صوبہ سرحد کی حکومت، جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانہ (88-1977) میں پورے ملک کی حکومت۔ حضرت عائشہ کی ایک روایت اس معاملہ کے اوپر نہایت صحیح تبصرہ ہے۔ صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن (باب تالیف القرآن) میں ایک طویل روایت آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: "إِنَّمَا نُزِلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ الْمُفَصَّلِ، فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا" (صحیح البخاری، حدیث نمبر (4707)۔ یعنی، قرآن میں پہلے مفصل کی سورتیں اتریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader