دوسری عالمی جنگ کے بعد
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے، تو حلال و حرام کے احکام اترے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ مسلم ملکوں کے بارے میں علما نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک غلط اندازہ تھا۔ موجودہ مسلم نسلوں کی حیثیت ایک قومی مجموعہ کی ہے، نہ کہ حقیقتاً ایک دینی گروہ کی۔ حتیٰ کہ ان میں جو لوگ نماز، روزہ جیسے اعمال کرتے ہیں یا حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، ان کے بارے میں بھی یہ اندازہ سراسر غلط ہوگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا اقتدار علما کے ہاتھ میں ہو اور وہ ان کے اوپر شریعت کے قوانین کا نفاذ کریں۔ مسلم ملکوں میں علما کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے جو صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کا خلاصہ، حضرت عائشہ کی زبان میں یہ ہے کہ علما لوگوں کے اندر رجوع اور آمادگی پیدا کیے بغیر شراب اور زنا کے احکام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہاں کے عوام ان کو جواب دے رہے ہیں کہ ہم تو تمہارے اس قانون کو کبھی اپنے اوپر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے پہلے 11 جنوری 1827ء کو سید احمد بریلوی اور ان کے رفقاء نے پشاور کے علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی تھی۔ سید صاحب کو اس میں امیر المومنین منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بہت جلد آپس میں اختلاف ہوا۔ حتیٰ کہ مقامی مسلمانوں نے سید صاحب کے مقرر کردہ عالموں کو قتل کر دیا۔ اس طرح یہ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ معاشرہ کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشانہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربہ کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader