فکر اسلامی
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں ”اسلامی انقلاب“ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ ان تحریکوں کے قائد علما اور اسلام پسند مفکرین تھے۔ ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، شام، الجیریا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت الہیہ، اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی (counter-productive) ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلام موجودہ زمانہ کے انسانی مسائل کا حل ہے۔ مثلاً سوامی ویویکانند (1902-1863ء)، جارج برنارڈ شا (1950-1856ء)، آرنلڈ ٹوائن بی (1975-1889ء) وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں کسی بھی قابل ذکر عالمی شخصیت کی زبان سے اس قسم کا اعتراف سنائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی رہنماؤں کی غلط نمائندگی ہے۔ اس سے پہلے عالمی مفکرین کے سامنے اسلام کے دور اول کی تاریخ تھی۔ اس سے متاثر ہوکر وہ اسلام کا شاندار تصور قائم کیے ہوئے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے علما اور رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جو بے معنی تحریکیں اٹھائیں وہ صرف انسانیت کے مصائب میں اضافہ کا سبب بنیں۔ زمانہ حاضر کے ان نام نہاد نمائندگان اسلام کے نمونوں کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہو گئے۔ ان کا یہ تاثر ختم ہو گیا کہ اسلام موجودہ زمانہ میں انسانی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پیغمبر کی مثال عبداللہ ابن عباس کی دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader