پیغمبر کی مثال
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اکابر کعبہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے باہم مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلاؤ تا کہ ان سے بات کر کے معاملات طے کیے جا سکیں۔ پیغام پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔ گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندہ نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئے ہیں۔ آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی۔ ہمارے دین پر عیب لگایا۔ ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے اصنام کو گالیاں دیں: لَقَدْ شَتَمْتَ الْآبَاءَ، وَعِبْتَ الدِّينَ، وَسَفَّهْتَ الْأَحْلَامَ، وَشَتَمْتَ الْآلِهَةَ اس قسم کی کچھ اور باتیں بیان کرنے کے بعد قریش کے نمائندہ نے آپ سے کہا کہ آپ شتم اور تعییب اور تسفیہ کا یہ کام چھوڑ دیں۔ اس کے عوض آپ جو کچھ چاہیں وہ سب ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ حتی کہ اگر آپ بادشاہ چاہتے ہوں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں (وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ مُلْكاً مَلَّكْنَاكَ عَلَيْنَا) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، صفحہ 479۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ اور بدستور اپنے تبلیغی کام میں لگے رہے۔ جب کہ معلوم ہے کہ بعد کو مدینہ جا کر آپ نے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ آپ نے مکہ میں حکومت کی پیش کش کو کیوں قبول نہیں کر لیا۔ جو اسلامی حکومت آپ نے پندرہ برس بعد مدینہ میں قائم کی، اس اسلامی حکومت کو آپ نے پندرہ برس پہلے ہی مکہ میں کیوں نہ قائم کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس طرح قائم نہیں ہوتی کہ ایک اسلامی شخصیت کسی نہ کسی طرح حکومت کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ حکومت کے قیام کا نہایت گہرا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ معاشرہ درکار ہے جہاں لوگوں کے اندر اسلام کے حق میں آمادگی پیدا ہو چکی ہو۔ جہاں وہ سیاسی اسباب جمع ہو چکے ہوں جو کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader