Urdu book · فکر اسلامی

پیغمبر کی مثال

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ مکی دور میں مکہ کے اندر اس قسم کے موافق اسباب جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے آپ نے مکہ میں حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو مدینہ میں یہ اسباب جمع ہو گئے، اس لیے وہاں آپ نے باقاعدہ طور پر اسلام کی حکومت قائم کر دی۔ دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکہ میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکہ کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قابل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا: مُذَمَّمًا عَصَيْنَا، وَأَمْرَهُ أَبَيْنَا دوسری طرف نبوت کے تیرہویں سال جب آپ اپنے رفیق ابو بکر بن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ پہنچے تو وہاں دونوں کا استقبال اِنْطَلَقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ (مسند احمد، حدیث نمبر 13318) کے الفاظ سے کیا گیا، یعنی آپ دونوں امن کے ساتھ ہمارے سردار کی حیثیت سے مدینہ میں داخل ہوں۔ مدینہ کے بچوں نے آپ کی آمد پر یہ اشعار پڑھے کہ اے ہماری طرف بھیجے جانے والے، آپ ایک قابل اطاعت بات لے کر آئے ہیں: أَيُّهَا الْمَبْعُوثُ فِينَا ... جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعُ اسی نوعیت کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) کے لیے مقدر تھا کہ اس کو دوبارہ اقتدار دیا جائے جس طرح اس سے پہلے اس کو اقتدار دیا گیا تھا (المائدہ، 23-5:20)۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے عمالقہ کے خلاف جہاد کیا اور ان کو زیر کر کے شام فلسطین کے علاقہ میں اپنی حکومت قائم کی جو ایک عرصہ تک باقی رہی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کا موقع تو انھیں نصف صدی پہلے حضرت موسیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page