Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد کی اہمیت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں کہ اب اس کے اہل افراد دنیا میں پائے نہیں جاتے۔ اس تفنین نے فطری دین میں غیر فطری مسائل پیدا کر دیے۔ مثلاً ایک مسئلہ یہ تھا کہ شریعت میں استدلال کی بنیاد کیا ہو۔ اس میں فنی خوض کر کے فقہا نے چار اصول وضع کیے عبارت النص، دلالتہ النص، اشارتہ النص، اقتضائے النص (التلوین علی التوضیح للتفتازانی، جلد 2، صفحہ 161)۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تدقیق ہے۔ اس چار کو ہم سادہ طور صرف دو میں بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی منصوص استدلال اور استنباطی استدلال۔ جو استدلال براہ راست کسی نص صریح پر مبنی ہو، وہ منصوص استدلال ہے ۔ اور جو استدلال کسی نص سے مستنبط کیا جائے وہ استنباطی استدلال۔ اجتہاد کے معاملہ میں بھی اسی طرح کی تدقیق کر کے اس کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی مصنوعی پیچیدگی نے چوتھی صدی ہجری میں یہ ذہن پیدا کیا کہ اب ہمیشہ کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ اجتہادی صلاحیت کے لوگ دنیا میں باقی نہیں رہے۔ حالاں کہ اجتہاد کو اگر اس کے فطری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا دروازہ بند ہونے کی بات بالکل بے معنی نظر آئے گی۔ کیوں کہ اجتہاد محض ایک شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ضرورت حیات ہے۔ اجتہاد در اصل استنباط ہی کی اعلیٰ صورت ہے۔ اور استنباط ایک ایسی انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی معاملہ میں مفر ممکن نہیں۔ قدیم زمانہ میں اقتصادی معاملات (commercial transactions) کے لیے سونے اور چاندی کے سکے کا رواج تھا جن کا نقل وحمل سخت مشکل تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں کاغذی نوٹ کا عمومی استعمال شروع ہوا جس نے اس مسئلہ کو نہایت آسان بنا دیا۔ خالص فنی اعتبار سے نوٹ کا جائز ہونا مشتبہ تھا۔ مگر عوام نے اس کے جواز کے لیے علما کے اجتہاد کا انتظار نہیں کیا۔ نوٹ کے آتے ہی لوگوں نے فوراً اس کو قبول کر لیا۔ یہ واقعہ بتاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page