پیغمبر کی مثال
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ السلام کے زمانہ ہی میں حاصل ہو چکا تھا۔ پھر اس کو نصف صدی تک موخر کیوں کیا گیا۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ وہاں کا حکمراں فرعون اور اس کی پوری فوجی طاقت سمندر میں غرق کر دی گئی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لیے مصر میں میدان خالی تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی راجدھانی ممفس واپس آ کر وہاں کے خالی تخت پر قبضہ کر کے بیٹھ سکتے تھے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی معجزاتی ہلاکت کے بعد ان کے حق میں ملک میں مرعوبیت کی جو فضا بنی تھی اس کے تحت یقینی تھا کہ لوگ ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔ مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ وہ مصر کے خالی سیاسی میدان کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا میں چلے گئے۔ وہاں چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان بنی اسرائیل کے لوگ صحرا کی مشقتوں کو جھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے زیادہ عمر کے تمام افراد مر گئے ۔ اور صرف وہ نئی نسل باقی رہی جو صحرائی ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تھی۔ اس تاخیر کا واحد راز یہ ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کی جونسل تھی وہ مخصوص اسباب سے اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اپنے اور ہارون کے سوا کسی اور کے اوپر مجھے کوئی بھروسہ نہیں (المائدہ، 25:5)۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی پوری قوم کو ”وادی تیہ‘‘ میں ڈال دیا گیا تا کہ ان کے تمام ادھیڑ اور بوڑھی عمر کے لوگ ختم ہو جائیں اور نئی نسل صحرائی حالات میں تربیت پا کر اپنے اندر قابل اعتماد سیرت پیدا کرے اور پھر اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی حکومت قائم کر سکے۔ مذکورہ دونوں واقعات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ حکومت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ اس کے حق میں ضروری اجتماعی حالات فراہم ہو چکے ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader