Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ علیہ وسلم کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اگر آبادی میں حقیقی سطح پر موافق فضا نہ ہو تو پیغمبر بھی وہاں اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اس قسم کی ضروری فضا کے بغیر حکومت قائم کرے تو قائم ہونے کے جلدی بعد اس کا تختہ الٹ دیا جائے گا، اور آخر کار کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ کی مثال بتاتی ہے کہ حکومت کے قیام کے لیے باکردار افراد کی ایک مضبوط ٹیم کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ایسی ٹیم نہ ہو تو خواہ ملک میں سیاسی خلا پایا جائے اور خواہ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے بیک وقت دو پیغمبر موجود ہوں تب بھی وہاں اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہیں۔ اس پیغمبرانہ نظیر کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں ساری مسلم دنیا میں ’’اسلامی حکومت قائم کرو‘‘ کے نام پر جو ہنگامے جاری کیے گئے، وہ صرف نادانی کی چھلانگ تھے ۔ جس کا آخری نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا اور یہی ہوا کہ آدمی حادثہ کا شکار ہو کر اسپتال میں پہنچ جائے اور منزل بدستور دور کی دور پڑی رہے۔ زمانی تبدیلی موجودہ زمانہ کے علما کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے مغربی قوموں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک طاقت ور تہذیب کا یلغار تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیاسی فتح و شکست اس معاملہ میں محض اضافی ہے۔ ان قوموں کو بالفترض سیاسی جنگ کے میدان میں شکست ہو جائے تب بھی ان کا غلبہ باقی رہے گا۔ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آیا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر تاتاریوں کا غلبہ محض ایک شمشیری غلبہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دوبارہ شمشیر کے میدان میں انھیں شکست دے دی جائے تو عین اسی وقت ان کا غلبہ بھی ختم ہو جاتا تھا۔ مگر مغربی اقوام کا غلبہ اس سے زیادہ تھا کہ اس کا فیصلہ کسی میدان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page