Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصد کا تصور فنا ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کے زندہ اوصاف نے ان کو باہم متحد کر رکھا تھا اور اہل مشرق اپنے زوال یافتہ اوصاف کے نتیجہ میں ان خصوصیات سے محروم ہو چکے تھے جو افراد کو ایک دوسرے سے متحد کرتے ہیں۔ اہل مغرب اس احساس پر ابھرے تھے کہ انھوں نے ایک نئی تہذیب پیدا کی ہے جس کو انھیں سارے عالم تک پہنچانا ہے اور اہل مشرق صرف اس احساس پر زندہ تھے کہ وہ ماضی کے قدیم اثاثہ کے وارث ہیں۔ اہل مغرب اقدام کے جذبات سے بھر پور تھے جب کہ اہل مشرق کی دوڑ کی آخری حد تحفظ پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔ اس فرق نے دونوں جماعتوں کے افراد کے درمیان زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی فرق پیدا کر دیا تھا جو ایک تھکی ہوئی فوج اور ایک تازہ دم فوج کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ اپنے گروہ کے افراد کو از سر نو تیار کیا جائے، نہ یہ کہ ان غیر تیار شدہ افراد کو جوش دلا کر انھیں فریق ثانی کے خلاف صف آرا کر دیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور کے علما نے کیا۔ عُسر میں یُسر علما کے ذہن پر سیاست وحکومت کے غیر ضروری تسلط کا سب سے زیادہ مہلک نقصان یہ ہوا کہ جدید انقلاب میں انھیں ہر طرف بس ظلم اور سازش اور مصائب نظر آئے۔ اس انقلاب کے اندر چھپے ہوئے امکانات و مواقع کو دیکھنے سے وہ کلی طور پر محروم رہے۔ اور جو لوگ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہیں وہ یقینی طور پر ان کو استعمال کرنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ قرآن (6-94:5) میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ضرور موجود ہے ۔ یہاں ہر مسئلہ کے ساتھ ہی مواقع بھی ضرور پائے جائیں (فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) ۔ قدیم تفسیروں میں اس آیت میں مَعَ کی تفسیر مَعَ (ساتھ) کے ذریعہ کی گئی ہے۔ مثلاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page