عُسر میں یُسر
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
مفسر ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالی نے یہ خبر دی ہے کہ عسر کے ساتھ یسر پایا جاتا ہے (أخبر تعالى أن مع العسر يوجـد اليسر)۔ مگر موجودہ زمانہ کے علما پر زمانی مسائل کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اپنے غیر واقعی ذہنی تاثر کے تحت آیت میں یہ تصرف کیا کہ مع کو بعد کے معنی میں لے لیا۔ اور اس کے مطابق اس کی تشریح کر ڈالیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن میں سورہ الانشراح کی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: ’’اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تا کہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی (عسر) کے ساتھ فراخی (یسر) ہو۔ کیوں کہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔‘‘ اس تفسیر میں مَعَ کی ساری اہمیت ختم ہو گئی۔ حالانکہ مَعَ کا لفظ یہاں بہت با معنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اسی کے ساتھ حل کی صورتیں بھی موجود رہتی ہیں۔ یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) اپنے ساتھ ایڈوانٹیج (advantage) کو بھی ضرور لے آتا ہے۔ مغربی تہذیب اور مغربی استعمار کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ مسلم دنیا کے اوپر ایک بلا کے طور پر نازل ہوا۔ مگر اسی کے ساتھ اس میں زبردست قسم کے موافق امکانات بھی ہمارے لیے موجود تھے۔ اور سب سے بڑا موافق امکان یہ تھا کہ اس نے اسلام کی دعوت کے ایسے نئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader