Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد کی اہمیت

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ اجتہاد کس طرح ایک ضرورتِ حیات ہے۔ اور جو چیز ضرورتِ حیات کی حیثیت رکھتی ہو وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک خود حیات باقی ہے۔ نہ اس کا دروازہ بند ہونے کا سوال ہے اور نہ اس کی کنجی گم ہونے کا۔ اجتہاد کا لفظ جُہد سے بنا ہے۔ جُہد کے معنی کوشش کے ہیں اور اجتہاد کے معنی زیادہ کوشش کے ہیں۔ اجتَهَدَ فِي الأَمْر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے فلاں معاملہ میں انتہائی کوشش کی۔ اس میں اس نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کر ڈالی۔ شریعت کے مسائل میں جب اجتہاد کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے، اپنی پوری کوشش صرف کر کے متعلقہ معاملہ میں شرعی حکم معلوم کرنا۔ مجتہد کی دو بڑی تقسیم کی گئی ہے۔ مجتہد مقید، مجتہد مطلق۔ مجتہد مقید وہ ہے جو پیش آمدہ حالات میں مروجۂ فقہی مسالک میں سے کسی مسلک کا پابند رہ کر فتویٰ دے۔ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک سے باہر نہ جائے۔ مثلاً فقہ حنفی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین مانا جاتا ہے۔ اب مسلک حنفی سے وابستہ مجتہد اسی کی پیروی میں فتویٰ دے گا، وہ کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔ مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔ مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی امام کی پیروی نہ کرے۔ بلکہ معاملہ پیش آنے کے بعد براہِ راست شرعی دلائل کی روشنی میں ازخود مسائل و احکام کا استنباط کرے۔ ان دونوں اصطلاحوں میں مقید اور مطلق کا تعین مسالک فقہ کی نسبت سے ہے۔ یعنی مروجۂ مسالک فقہ کا پابند رہ کر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مقید ہے، اور مروجۂ مسالک فقہ کی پابندی کے بغیر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مطلق۔ اس کے بعد مزید تدقیق کر کے مجتہد مقید کی کئی قسمیں بنائی گئی ہیں۔ مثلاً مجتہد منتسب،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page