فکر اسلامی
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
اور طاقتور امکانات کھول دیے جو پچھلی تاریخ میں کبھی حاصل نہ تھے۔ علما اگر اس راز کو سمجھتے اور اس کو استعمال کرتے تو وہ تاریخ جدید کے المیہ کو امت کے حق میں طربیہ بنا دیتے۔ مگر مذکورہ ذہن کی وجہ سے وہ اس کو سمجھ نہ سکے۔ نئے دعوتی امکانات موجودہ زمانہ میں جو نئے دعوتی امکانات پیدا ہوئے ہیں اس پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں۔ یہاں مختصر طور پر اس کے کچھ پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے: 1۔ دور جدید کی بنیاد آزادی فکر پر تھی۔ اس فکری انقلاب نے جس طرح اور بہت سی چیزیں پیدا کیں، اس نے ایک نہایت اہم چیز وہ پیدا کی جس کو مذہبی آزادی کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے تمام پچھلے زمانوں میں مذہبی تعذیب (religious persecution) کا عام رواج رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مذہبی آزادی اور مذہبی تبلیغ کو ایک جائز انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کے تحت تمام دنیا کی قوموں نے اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار ہمارے لیے مواقع کھول دیے کہ ہم بے روک ٹوک دین حق کی تبلیغ واشاعت کر سکیں۔ 2۔ موجودہ زمانہ آزادانہ تحقیق (free inquiry) کا زمانہ تھا۔ اس کے نتیجہ میں جس طرح دوسری چیزوں کی آزادانہ جانچ کی گئی، اسی طرح مذہب اور مذہبی کتابوں کو بھی آزادانہ طور پر جانچا گیا۔ مثال کے طور پر تنقید بائبل (biblical criticism) کے تحت بائبل کا جو تنقیدی مطالعہ کیا گیا اس سے خالص علمی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ بائبل کا موجودہ متن تاریخی طور پر معتبر متن نہیں ہے۔ دوسری طرف قرآن پر اسی قسم کے مطالعہ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کا موجودہ متن تاریخی معیار سے آخری حد تک ایک معتبر متن ہے۔ جدید دور نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader