نئے دعوتی امکانات
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک طرف انسانی علم کے معیار پر دوسری کتب مقدسہ کا محرف ہونا ثابت کر دیا اور اس طرح خود انسانی علم کے معیار پر یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن ایک مکمل طور پر ایک غیر محرف کتاب ہے تقابلی مذہب کے اس مطالعہ نے دور جدید میں اسلامی دعوت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا جو ابھی تک بند پڑا ہوا تھا۔ 3۔ موجودہ زمانہ میں جو مختلف نئے علوم پیدا ہوئے ۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو علم الانسان (anthropology) کہا جاتا ہے۔ اس میں انسانی معاشروں کا مطالعہ خالص موضوعی انداز میں کیا گیا۔ اس مطالعہ سے یہ ثابت ہوا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ہر انسانی معاشرہ میں ہمیشہ موجودہ رہا ہے۔ اس تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ایک فطری عقیدہ ہے۔ وہ انسان کی خود اپنی طلب کا جواب ہے۔ اس دریافت نے اسلامی دعوت کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ اسی طرح انسانی ضرورت کی فراہمی کا ایک کام ہے جس طرح خوراک کی فراہمی (food supply) کا نظام۔ 4۔ موجودہ زمانہ میں جو سائنسی حقائق دریافت ہوئے، وہ حیرت انگیز طور پر قرآن کے بیانات کی تائید کر رہے تھے۔ وہ قرآن کی پیشین گوئی کی تصدیق تھے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی ، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی ۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ حق ہے۔ اس اعتبار سے جدید سائنس ایک مسلم داعی کے لیے طاقتور علمی ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ 5۔ نئی ایجادات میں ایک چیز وہ ہے جس کو جدید مواصلات (modern communication) کہا جاتا ہے۔ اس نے تاریخ میں پہلی بار تمام فاصلے آخری حد تک گھٹا دیے ہیں اور اس طرح اس کو ممکن بنایا ہے کہ ایک داعی نہایت آسانی کے ساتھ ساری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader