Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کو اپنی تبلیغ کا میدان بنا سکے۔ وسائل کے اعتبار سے یہ حدیث رسول کی اس پیش گوئی کی ظہور ہے جس میں خبر دی گئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کی آواز تمام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گی۔ 6۔ میں نے اپنی کتاب ”عقلیاتِ اسلام“ کے ابتدائیہ میں جون 1978ء میں کہا تھا کہ ”آزاد دنیا“ میں دعوت کے غیر معمولی نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم اشتراک کی دنیا کا اس میں استثنا ہے۔ کیوں کہ وہاں کا مل جبر کا نظام قائم ہے۔ اس لیے وہاں اس وقت دعوت اسلامی کے کھلے مواقع موجود نہیں ہیں۔ مگر اس تحریر کے صرف 13 سال بعد حالات بدل گئے ۔ 1991ء کے خاتمہ کے ساتھ اشتراکی ایمپائر کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اب اشتراک کی دنیا میں بھی تبلیغِ دین کے وہی مواقع کھل گئے ہیں جو اس سے پہلے صرف غیر اشتراک کی دنیا میں پائے جاتے تھے۔ دورِ جدید سے بے خبری اس سے پہلے میں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون ”دورِ جدید کو جاننے کی ضرورت“ کے عنوان سے ہفت روزہ الجمعیۃ (24 نومبر 1967ء) میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ ”دنیا میں فکر و عمل کا جو انقلاب آیا ہے اس نے اسلام کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مگر یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اگر چہ امت طویل مدت سے اس سنگین صورت حال سے دو چارہ ہے۔ مگر آج تک یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ فی الواقع جدید مسئلہ ہے کیا۔“ ندوۃ العلما لکھنؤ نے 1894 میں ملک کے بڑے بڑے علما کی ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ اصلاحِ نصاب کے سلسلہ میں اپنی سفارشات پیش کرے۔ اس موقع پر مولانا شاہ محمد حسین صاحب نے جو یادداشت پیش کی، اس کا ایک پیرا گراف مطبوعہ رو داد کے مطابق یہ تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page