دورِ جدید سے بے خبری
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
” موجودہ درسِ نظامیہ کا ایک نقصان یہ ہے کہ) فلسفۂ جدید جو اسلامی اصول پر آج کل حملہ آور ہے، اس کے روک کی کوئی تدبیر نہیں بتائی جاتی۔ لہٰذا میرے نزدیک مناسب ہے کہ کوئی کتاب فلسفۂ جدید میں تالیف کی جائے اور اس کی ترکیب آسان یہ ہے کہ ایسے خالص مسلمانوں سے درخواست کی جائے جنہوں نے انگریزی فلسفہ اور انگریزی کی تعلیم اچھی پائی ہو۔ وہ مسائلِ فلسفہ مخالف ا سلام چھانٹ کر اردو میں ترجمہ کر کے حوالۂ ندواتہ العلما کریں۔ ندوۃ العلما اس کا جواب لکھ کر داخلِ درس کرے کہ ایامِ تعطیل و اوقاتِ فرصت میں طلبہ اس کو بخوبی دیکھیں۔“ اس تجویز پر تقریباً سو سال گزر چکے ہی۔ مگر اب تک یہ تجویز واقعہ نہ بن سکی۔ ندوۃ العلما نے اپنے دعوے کے مطابق، اس مدت میں بڑی بڑی ترقیاں کی ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ ندوۃ العلما کا نصاب آج بھی ایسی کسی کتاب سے خالی ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے تقسیمِ ہند سے دس سال پہلے ایک کتاب لکھی جو ”تجدید و احیاءِ دین“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں وہ شاہ ولی اللہ سے لے کر شاہ اسماعیل تک کی اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید جو عملاً اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے اٹھے تھے، انھوں نے سارے انتظامات کیے مگر اتنا نہ کیا کہ اہلِ نظر علما کا ایک وفد یورپ بھیجتے اور یہ تحقیق کراتے کہ یہ قوم جو طوفان کی طرح چھاتی چلی جا رہی ہے اور نئے آلات، نئے وسائل، نئے طریقوں اور نئے علوم و فنون سے کام لے رہی ہے اس کی اتنی قوت اور اتنی ترقی کا راز کیا ہے۔ اس کے گھر میں کس نوعیت کے ادارات قائم ہیں۔ اس کے علوم کس قسم کے ہیں۔ اس کے تمدن کی اساس کن چیزوں پر ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader