Urdu book · فکر اسلامی

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کا احساس مدت سے بار بار ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مگر اب تک کوئی بھی قابل ذکر عالم ایسا نہیں نکلا جو فی الواقع اس تحقیقی مقصد کے تحت مغربی دنیا کا سفر کرے یا اس خاص مقصد کے لیے مغربی لٹریچر کا گہرا اور موضوعی مطالعہ کرے ۔ موجودہ زمانہ میں سفروں کے بڑھنے کی بنا پر کچھ علما کو یہ موقع ملا کہ وہ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جائیں۔ مگر اس جانے کا کوئی بھی تعلق مذکورہ تحقیقی مقصد سے نہیں ہے ۔ یہ تمام لوگ جو بظاہر یورپ یا امریکہ جاتے ہیں وہ حقیقتاً یورپ یا امریکہ نہیں جاتے بلکہ یورپ اور امریکہ کے کچھ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں۔ ان جانے والوں کا مغربی دنیا سے کوئی حقیقی ربط قائم نہیں ہوتا اور نہ وہ وہاں کے اصل حالات کی تحقیق کے لیے کوئی کوشش اور جدوجہد کرتے۔ یہاں دو کتابوں کی مثال لیجئے۔ ایک سید قطب کی کتاب: اَمْرِیکا اَلَّتِی رَأَیْتُ (امریکہ جس کو میں نے دیکھا)، اور دوسری کتاب مولانا ابوالحسن علی ندوی کے سفر مغرب کی مفصل روداد جو ”دو مہینے امریکہ میں“(1978) کے نام سے چھپی ہے۔ ان دونوں کتابوں کا کوئی تعلق امریکی زندگی کے گہرے مطالعہ سے نہیں۔ مثال کے طور پر ”دو مہینے امریکہ میں“ کو ایک شخص پڑھتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ صاحب سفر کے دو مہینے امریکہ میں گزر جاتے ہیں مگر اس لمبی مدت میں اس کی کسی اصل امریکی سے ملاقات تک نہیں ہوتی۔ نہ امریکی نظریہ حیات کو سمجھنے کے لیے وہ وہاں کے کسی ادارہ کا گہرا مطالعہ کرتا۔ ان کتابوں کو پڑھ کر کوئی شخص مغرب کے بارے میں سطحی قسم کا کچھ منفی تاثر ضرور لے سکتا ہے۔ مگر ان کو پڑھنے والا یہ نہیں جان سکتا کہ امریکہ کی قوت کا راز کیا ہے۔ اور اس کا وہ فکری اثاثہ کیا ہے جس کے اوپر اس کے نظریاتی ڈھانچہ کی تشکیل ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے علما مغربی افکار کو سرے سے جانتے ہی نہیں۔ ناقص معلومات کی بنا پر ہمارے علما کے ذہن میں مغربی انسان کی اسی طرح غلط تصویر بن گئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page