Urdu book · فکر اسلامی

دورِ جدید سے بے خبری

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جس طرح قدیم مستشرقین کے ذہن میں اسلام کی بالکل غلط تصویر بن گئی تھی۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مغربی انسان عقل پرست ہوتا ہے۔ وہ بے قید آزادی فکر کا قائل ہے۔ ایک عالم کے الفاظ میں، مغربی انسان کا کلمہ ہے — لا موجود الا العقل۔ مگر یہ مغربی تعقل کی نہایت غلط تعبیر ہے۔ مغربی انسان بے قید فکر کو نہیں بلکہ تحقیقی فکر کو عقل سمجھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اعتقادی مسلمات یا بدیہیات کی بنیاد پر استدلال کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی غور و فکر کا معیار یہ ہے کہ کسی بھی عقیدہ یا نظریہ کو پیشگی مسلمہ کے طور پر نہ مانا جائے، بلکہ واقعات و حقائق کی روشنی میں پرکھ کر اس کے بارے میں ایک رائے قائم کی جائے۔ مزید یہ کہ یہ تصور عقل ہمارے لیے انتہائی مفید ہے۔ کیوں کہ اسلام کی بنیاد محکم حقائق پر ہے اور دوسرے مذاہب اپنی موجودہ صورت میں مفروضات اور توہمات پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں مذکورہ عقلی تصور کے تحت تمام مذاہب کی مقدس کتابوں کی علمی تحقیق کی جانے لگی۔ اس تحقیق میں مغربی علما نے جس طرح دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں کی علمی جانچ کی۔ اسی طرح انھوں نے قرآن کی بھی علمی جانچ کی۔ قدیم زمانہ میں موجودہ بائبل کو مسلم طور پر خدا کا کلام مان لیا گیا تھا۔ اس کو علمی تحقیق کے بغیر مقدس کلام کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ اب جدید معیار عقل کے مطابق بائبل کے متن کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد عین علم انسانی کی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ موجودہ بائبل تاریخی حیثیت سے ایک غیر معتبر کتاب ہے۔ دوسری طرف اس علمی تحقیق نے قرآن کے بارے میں ثابت کیا کہ اس کو مکمل طور پر تاریخی اعتباریت حاصل ہے۔ علما اگر مغربی فکر کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو اس کو اپنے لیے عین مفید سمجھ کر اس کا استقبال کرتے۔ مگر سطحی معلومات کی بنا پر وہ اس کے مخالف بن گئے اور اس کا مذاق اڑانے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page