Urdu book · فکر اسلامی

چند مثالیں

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

چند مثالیں سید ابو الاعلیٰ مودودی کے نزدیک اسلام ایک مکمل سیاسی انقلاب کی تحریک ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے وہ پر جوش طور پر لکھتے ہیں : ”آج دنیا آپ کے موذن کو اشہد ان لا الہ الا اللہ کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں، نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور مقصد نظر آتا ہے۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرماں روا نہیں ہے۔ کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا۔ کسی قانون کو میں نہیں مانتا۔ کسی عدالت کے حدود اختیارات مجھ تک نہیں پہنچتے۔ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے۔ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں۔ کسی کے امتیازی حقوق، کسی کی ریاست، کسی کا تقدس، کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا۔ ایک اللہ کے سوا میں سب سے منحرف ہوں۔ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ آپ خود کسی سے لڑنے نہ جائیں یا نہ جائیں دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکا یک زمین و آسمان آپ کے دشمن ہو گئے ہیں اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ، بچھو اور درندے ہی درندے ہیں۔ “ اسلامی سیاست، دہلی 1986، صفحہ 76۔ 175 سید ابو الاعلیٰ مودودی نے یہ پرجوش الفاظ اس لیے لکھے کہ انہوں نے دیکھا کہ آج ہماری مسجدوں سے اذان کی آواز بلند ہو رہی ہے تو کوئی اس کی وجہ سے ہم سے لڑنے نہیں آتا۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی آواز بلند کی تو ہر طرف سے متشددانہ مخالفت شروع ہو گئی۔ ”کسی کو گھر والوں نے نکال دیا۔ کسی پر مار پڑی۔ کسی کو قید میں ڈالا گیا۔ کس کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا۔ کسی کی سر بازار پتھروں اور گالیوں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page