Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

شاخیں بہار کا منظر پیش کرتی ہیں مگر وہ ایسی زہریلی ہوا گل رہی جو نظر نہیں آتی اور اندر ہی اندر نوع بشری کے خون کو مسموم کیے جا رہے ہیں (صفحہ 29-28) اس قسم کے مضامین صرف جدید تہذیب سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ کے علما کے لیے یہ تہذیب صرف نفرت و حقارت کا موضوع بن گئی۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے مثبت امکانات کو دریافت ہونے سے قاصر ہے۔ اور اسی لیے وہ اس کو اپنے حق میں استعمال بھی نہ کر سکے۔ سطحی رائے انیسویں صدی کے آغاز میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اعلان کیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو گیا ہے۔ اس کے بعد 500 علما نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہو گیا ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کریں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی جہاد بالسيف کی باتیں بدستور جاری ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی ایک سفر کے دوران حمص گئے۔ اس کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے ہیں: ”حمص، جو سیف اللہ خالد بن ولید کی آرام گاہ ہے، وہاں مرکز اخوان المسلمین میں 29 جولائی 1951ء کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام وحمص کے رہنے والو، عالم اسلام کو اب پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالم اسلام کو اس کی کھوئی ہوئی تلوار مستعار دے سکتے ہیں۔“ (صفحہ 390) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم رہنما کس طرح دور حاضر کی اصل حقیقت سے بے خبر رہے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ میں پیش آنے والے مسئلہ کو سادہ طور پر صرف سیاسی یا حربی مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ وہ دراصل دور انسانی میں تبدیلی کا مسئلہ تھا۔ اپنی اس بے خبری کی بنا پر وہ اپنی جدوجہد میں اس کی رعایت نہ کر سکے اور نتیجہ ان کی ساری قربانیاں لاحاصل ہو کر رہ گئیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page