Urdu book · فکر اسلامی

سطحی رائے

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل مغرب کے کئی سو سالہ عمل نے دنیا میں ایک نیا دور پیدا کیا تھا۔ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کو جاننا ضروری تھا۔ اس نئے دور کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک، شاکلہ انسانی میں تبدیلی۔ دوسرے معیار قوت کا بدل جانا۔ آئندہ صفحات میں ان دونوں پہلوؤں کی مختصر وضاحت کی جائے گی۔ علما کی دور جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا ہو۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر سید قطب تک، میرے علم کے مطابق، مسلم علما کوئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ ان سب پر البرٹ ہورانی کا یہ تبصرہ صادق آتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بیشتر اسلامی تحریریں عصری فکر کی ہم سطح نہیں ہیں: Most of the writings of Islam by Muslims" is not on the level of current thought.(Albert Hourani) دور جدید کے علما کا جو مطبوعہ ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ عقلی بیان (reasoned statement) کیا ہے۔ اس سلسلہ میں روایتی علما کا تو ذکر ہی نہیں، کیوں کہ وہ اس معاملہ کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ خود وہ علما جو اپنے معتقدین کے درمیان ”مجمع البحرین“ سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اس سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت ”مسلمانوں کی باہمی جنگ“ کے مسئلہ پر کئی صفحہ کا حاشیہ لکھا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ظالم مسلم حکومت کے خلاف خروج کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اس بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ اس ابتدائی بیان کے فوراً بعد لکھتے ہیں: ”جمہور فقہا اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page