اجتہاد کی اہمیت
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
مجتہد تخریج، مجتہد ترجیح، مجتہد الفتیا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید میں مجتہد کی یہ قسمیں بتائی ہیں۔ لیکن اگر تدقیق کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس فہرست میں مزید اتنے ہی مجتہدین کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جتنا کہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کو اگر فطری انداز سے دیکھا جائے تو بنیادی طور پر مجتہدین کی صرف دو قسمیں قرار پائیں گی۔ میں ان کو کلی مجتہد اور جزئی مجتہد کہوں گا۔ جزئی مجتہد وہ ہے جو شریعت کے فرعی احکام میں مسلّمہ فقہی اصولوں کے مطابق اجتہاد کرے۔ کلی مجتہد وہ ہے جو کسی پیش آمدہ صورت معاملہ میں روایتی ڈھانچے سے اوپر اٹھ کر شریعت کے وسیع تر اور گہرے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیقی نوعیت کا ایک اصول وضع کر سکے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی زندگی میں جس طرح تمام معاملات و مسائل کے لیے نظیریں موجود ہیں۔ اسی طرح جزئی اجتہاد اور کلی اجتہاد کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ ان نظیروں اور مثالوں کا مطالعہ کر کے زمانوں کے زمانوں کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جزئی اجتہاد کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوۂ خندق سے فراغت کے بعد ذوالقعدہ 5 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی بستی بنو قریظہ کے محاصرہ کے لیے ان کی طرف صحابہ کی ایک جماعت بھیجی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک وہ بنو قریظہ کی بستی میں نہ پہنچ جائے : لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ مہم روانہ ہوئی تو راستہ میں عصر کا وقت آ گیا۔ کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کی ۔ وہ راستہ طے کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ گئے، اس وقت سواری سے اتر کر عصر کی نماز پڑھی۔ کچھ اور افراد کو اندیشہ ہوا کہ عصر کا وقت شاید نکل جائے۔ چنانچہ انھوں نے درمیان میں رک کر عصر کی نماز ادا کی۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader