Urdu book · فکر اسلامی

سطحی رائے

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن وامان اور نظم ونسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے... اس پر امام نووی اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن، جلد 5، صفحہ 80-79) یہ دونوں پیرا گراف ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیوں کہ جب ایک معاملہ میں جمہور فقہا کی ایک رائے ہو، حتی کہ اس پر علما وفقہا کا اجماع ہو چکا ہو تو اس کے بارے میں یہ کہنا بالکل بے معنی ہے کہ اس مسئلہ میں فقہا کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی معرکہ الآرا کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے دیباچہ میں مولانا موصوف لکھتے ہیں: ’’دورِ جدید میں یورپ نے اپنی سیاسی اغراض کے لیے اسلام پر جو بہتان تراشے ہیں، ان میں سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اپنے پیروؤں کو خون ریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اسے اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروان اسلام کی شمشیر خارا شگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خوں ریز تعلیم کا نتیجہ ہوں۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، دہلی، (1984ء، صفحہ 15 اس عبارت کا آخری حصہ اس کے پہلے حصہ کی تردید ہے۔ آخری حصہ میں مصنف خود یہ بات مان رہے ہیں کہ مسلمان اپنی شمشیر خاراشگاف لے کر اقوام عالم پر ٹوٹ پڑے۔ پھر یہی تو وہ بات ہے جس کو علما یورپ کہتے ہیں۔ ایسی حالت میں اس کو بہتان کس طرح قرار دیا جائے گا۔ سید قطب کی تفسیر قرآن بہت مشہور ہے جو چھ جلدوں میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page