Urdu book · فکر اسلامی

سطحی رائے

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

مجموعی طور پر اس کے چار ہزار سے زیادہ صفحات ہیں۔ مگر پوری تفسیر غیر علمی انداز میں ہے۔ اس میں انشاء کا حسن تو یقیناً ہے، مگر حقیقی علمی استدلال سے وہ تقریباً خالی ہے۔ مثال کے طور پر وہ سورہ فصلت کی آیت 42-41 کی تشریح اس طرح کرتے ہیں: " (وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ) وَأَنَّىٰ لِلْبَاطِلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَىٰ هَذَا الْكِتَابِ، وَهُوَ صَادِرٌ مِنَ اللَّهِ الْحَقِّ - يَصْدَعُ بِالْحَقِّ وَيَتَّصِلُ بِالْحَقِّ الَّذِي تَقُومُ عَلَيْهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ - وَأَنَّىٰ يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ وَ هُوَ عَزِيزٌ مَّحْفُوظٌ بِأَمْرِ اللَّهِ -" (فی ظلال القرآن، جلد 5، صفحہ 3127) یہ تفسیر محض ایک ادبی تفسیر ہے۔ اس کا علمی یا عقلی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سورہ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ نقل فرمایا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے جواب میں فرعون اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کرتا ہے اور ان کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے جو بظاہر موسیٰ کے خطاب سے متاثر ہو رہے تھے۔ اس تقریر میں فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ملک مصر سے نکال دیں (يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ) ۔ اس کی تشریح سید قطب نے ان الفاظ میں کی ہے: أَنَّهُمْ يُصَرَّحُونَ بِالنَّتِيجَةِ الْهَائِلَةِ الَّتِي تَتَقَرَّرُ مِنْ إِعْلَانِ تِلْكَ الْحَقِيقَةِ . أَنَّهَا الْخُرُوجُ مِنَ الْأَرْضِ .. أَنَّهَا ذَهَابُ السُّلْطَانِ .. أَنَّهَا إِبْطَالُ شَرْعِيَّةِ الْحُكْمِ .. أَوْ .. مُحَاوَلَةُ قَلْبِ نِظَامِ الْحُكْمِ ! .. بِالتَّعْبِيرِ الْعَصْرِيِّ الْحَدِيثِ ! (فی ظلال القرآن لسید قطب - تفسیر سورۃ الأعراف - الآیة 110، 3/1348۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page