فکر اسلامی
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
مصنف نے قرآن وحدیث کی بہت سی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ کیوں کہ خود شارع نے اپنے متعدد احکام میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ مصالح پر مبنی ہیں۔ مثلاً وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (البقرہ 179) یا صدقہ کے بارے میں یہ حدیث کہ: تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1508) اسی طرح انھوں نے صحابہ و تابعین کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں جن میں مصالح احکام کا تذکرہ ہے بعد کے زمانہ میں علما کے یہاں بھی جزئی طور پر اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً الغزالی، الخطابی، ابن عبد السلام وغیرہ (3_ 6) تاہم حجۃ اللہ البالغہ کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب مکمل طور اسرار شریعت ہی کے موضوع پر ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق، ان کو بطریق کشف اس کا اشارہ ملا۔ پھر اللہ نے ان پر الہام کیا (ثُمَّ أَلْهَمَنِی رَبِّی) کو وہ اس قسم کی ایک کتاب لکھیں ۔ حتیٰ کہ خواب میں حضرت حسنین نے ان کو ایک قلم دیا اور کہا کہ: هٰذَا قَلَمُ جَدِّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ اس قسم کی چیزیں بتاتے ہوئے شاہ صاحب لکھते ہیں: ”إِنَّ ا الشَّرِيْعَةَ الْمُصْطَفَوِيَّةَ أَشْرَفَتْ فِی هَذَا الزَّمَانِ عَلَى أَنْ تَبْرُزَ فِي قُمُصٍ سَابِغَةٍ مِنَ الْبُرْهَانِ“ (صفحہ 3) ۔ یعنی، شریعت محمدی کے لیے اس زمانہ میں وہ وقت آ گیا کہ وہ دلیل و برہان کے مکمل پیراہن کے ساتھ جلوہ افروز ہو۔ علما، خاص طور پر ہندستانی علما، اس کتاب کو ایک معرکہ الآراء کتاب سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں موجودہ دور عقلیت کے لیے تشفی کا وافر سامان موجود ہے۔ حتیٰ کہ ان کا خیال ہے کہ کسی مذہب کی عقلی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیہ کے موضوع پر آج تک اس پایہ کی کتاب نہیں لکھی گئی (216) ۔ نواب صدیق حسن خاں (1890-1822) نے لکھا ہے کہ اسرار احکام کے موضوع پر بارہ سو سال کے درمیان عرب وعجم کے کسی عالم کی ایسی کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader