Urdu book · فکر اسلامی

حجۃ اللہ البالغہ

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب موجود نہ تھی (مثلاً آس دریں دروازہ صد سال ہجری، بیچ یکے از علما عرب و عجم تصنیف موجود نامده) میرے پاس حجۃ اللہ البالغہ کا وہ نسخہ ہے جو قاہرہ (دار التراث) سے 1355ھ میں چھپا ہے ۔ اس کا جلد اول 198 صفحہ پر مشتمل ہے اور جلد ثانی 215 صفحہ پر ۔ زیر نظر مقالہ کی ترتیب کے دوران میں نے اس کتاب کو تقریباً مکمل دیکھا۔ بعض حصے کئی کئی بار پڑھے۔ مگر میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ساری کتاب میں کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں ملا جس کو جدید سائنٹفک معیار کے مطابق، عقلی دلیل کا درجہ دیا جا سکتا ہو۔ کتاب کا نام (حجۃ اللہ البالغہ) جو قرآن کی ایک آیت سے ماخوذ ہے، وہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ہے۔ مگر اصل کتاب حجت بالغہ کے انداز میں نہیں، بلکہ صرف تقلیدی انداز میں شریعت اسلامی کی تشریح کرتی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب بنیادی طور پر کتب فقہ کی ترتیب پر قائم کی گئی ہے۔ یہ ترتیب بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ ولی اللہ قدیم تقلیدی ڈھانچے سے باہر نہ نکل سکے۔ کیوں کہ ابواب فقہ دراصل ابواب احکام ہیں، نہ کہ ابواب اسرار۔ کتاب کے مباحث عام طور پر اِعْلَمْ کے لفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی تقلیدی مزاج کا ثبوت ہے یہ اس دور کا انداز کلام ہے جب کہ آدمی مقام عالم سے بولتا تھا۔ جدید انداز کلام مقامِ علم سے بولنے کا ہے۔ مگر شاہ ولی اللہ اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اسی طرح کتاب میں جگہ جگہ نَبِیَّنَا لکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موزوں ہے۔ علمی اعتبار سے اصل موضوع بحث یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ہمارے نبی تھے ۔ اصل موضوع بحث یہ ہے کہ کیا وہ خدا کے نبی تھے۔ اس کتاب میں سترہ سے لے کر سیاست مدن تک ہر چیز پر کلام کیا گیا ہے، مگر سب کا سب تقلیدی اور اعتقادی اسلوب میں ہے، نہ کہ حقیقتاً علمی اسلوب میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page