اجتہاد کی اہمیت
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کے قول سے مراد تعجیل سیر تھی (إِنَّمَا أَرَادَ تَعْجِیلَ السِّيْرِ)، نہ کہ ہر حال میں نماز کی ادائیگی میں تاخیر (الفصول فی سیرة الرسول لابن کثیر، صفحہ 171)۔ بنو قریظہ کے سفر کا یہ واقعہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ یہ مثال خود اصحاب رسول کے ذریعہ قائم ہوئی۔ اس میں بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اجتہاد میں ابتدائی حکم سے ظاہری مطابقت ضروری نہیں ہے۔ اگر اجتہاد میں حکم شرعی کی اصل روح پائی جارہی ہو تو وہ صحیح اجتہاد قرار دیا جائے گا۔ دور اول میں اجتہاد کلی کی ایک مثال وہ ہے جو حدیبیہ کے موقع پر پیش آئی۔ حدیبیہ کا معاہدہ تمام ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر کیا گیا۔ اس اعتبار سے وہ کلی اجتہاد کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیبیہ کا معاہدہ دس سال کا جنگ معاہدہ تھا جو یک طرفہ شرائط کی بنیاد پر کیا گیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 317)۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتر چکی تھی کہ ان لوگوں کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جارہی ہے، اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا (الحج، 22:39)۔ حدیبیہ کے وقت اور حدیبیہ سے پہلے فریق ثانی واضح طور پر ظلم اور جارحیت کا معاملہ کر چکا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی گئی۔ عمرہ کی ادائیگی کے بغیر حدیبیہ سے واپسی سراسر وقار کے خلاف تھی مگر آپ نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ معاہدہ کے کاغذ سے رسول اللہ کا لفظ مٹانا گویا اپنی اصل حیثیت کو مجروح کرنا تھا مگر اس کے باوجود آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا۔ ابو جندل کو زخمی حالت میں دشمنوں کی طرف واپس بھیجنا سخت جذباتی معاملہ تھا مگر اس کو بھی آپ نے برداشت کر لیا۔ حدیبیہ میں صحابہ کے پڑاؤ پر مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader