چند مثالیں
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ اعتراض کا یہ جواب مخالفین کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ اس جواب کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر طاقت حاصل تھی۔ مگر مجیب اور اس کے مخاطب کے درمیان یہ امر متفق علیہ نہیں۔ اس لیے مخاطب کی نسبت سے وہ عقلی دلیل بھی نہیں بن سکتا۔ 3۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں "مبحث فی الجہاد" کے عنوان سے 9 صفحات کا مفصل باب ہے۔ اس باب کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے جان لو کہ سب سے زیادہ کامل شرع اور سب سے زیادہ کامل قانون وہ شریعت ہے جس میں جہاد کا حکم دیا جائے (اِعْلَمْ أَنَّ أَتَمَّ الشَّرَائِعِ وَاَکْمَلَ النَّوَامِيْسِ هُوَا الشَّرْعُ الَّذِيْ يُوْمَرُ فِيْهِ بِالْجِهَادِ) جلد 2، صفحہ 170۔ جہاد (بمعنی قتال) کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ صاحب کتاب یہ بتاتے ہیں کہ ایسا قتال انسانیت کے حق میں رحمت ہے۔ اہل فساد جب دلیل وحجت سے نہ مانیں تو ان کے خلاف تشدد کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کے ظلم وشر سے انسانوں کو نجات دے دی جائے۔ اور خود ظالموں کو بزور دین صحیح اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے جوان کے لیے خیر ہے مگر وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں سمجھتے۔ یہ قتال ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر جسم کے سڑے ہوئے عضو کو صاحب جسم کے علی الرغم کاٹ کر پھینک دے: "وَالشَّرُّ الْقَلِيْلُ إِذْ كَانَ مُفْضِيْاً إِلَى الْخَيْرِ الْكَثِيْرِ وَاجِبٌ فِعْلُهُ" (جلد 2، صفحہ 170) یعنی، اور تھوڑا شر جب زیادہ خیر کی طرف لے جانے والا ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ قتال کے حق میں شاہ ولی اللہ کی یہ دلیل جدید انسان کے مسلّمات کے مطابق نہیں۔ اس کو سن کر جدید انسان کہے گا کہ آپ کا جذبہ صالح قابل قدر ہے۔ مگر آپ کی اسکیم سراسر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader