چند مثالیں
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
نادانی کی اسکیم ہے۔ آپ کی یہ توجیہ تلواروں کی لڑائی کے زمانہ میں با وزن محسوس ہوسکتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کی لڑائی میں وہ بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ نئے ہتھیار بن جانے کے بعد اب لڑائی خود تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی بن چکی ہے۔ آج کی لڑائی ایٹم بم کی لڑائی ہے۔ اور اگر ایٹم بم کی لڑائی چھیڑی جائے تو قدیم شمشیری جنگ کی طرح اس کا نقصان صرف مقاتل افراد تک یا جنگ کے میدان تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ پورے کُرۂ ارض پر اس کے اثرات پھیل جائیں گے۔ حتیٰ کہ اس کے بعد زمین ہی ناقابل رہائش ہو جائے گی۔ پھر جب خود انسانی دنیا ہی باقی نہ رہے گی تو وہ کون سا مقام ہوگا جہاں آپ جنگ جیت کر اپنا نظام خیر قائم کریں گے۔ 4_ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن چھ جلدوں میں ہے۔ اس کی پانچویں جلد میں سورہ الصف ( آیت 6) کی تشریح کے تحت انجیل برناباس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس انجیل کے تعارف اور اس کے اقتباسات پر تفہیم القرآن میں دس صفحے شامل کیے گئے ہیں۔ اس انجیل کے بیانات مسلمانوں کے عقائد سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں ”محمد“ کا نام بھی موجود ہے۔ مثلاً: سردار کاہن نے مسیح سے پوچھا کہ وہ آنے والا کس نام سے پکارا جائے گا۔ مسیح نے کہا کہ ”سو اس کا مبارک نام محمد ہے۔“ اس انجیل میں درج ہے: ”اے محمد، انتظار کر۔ کیوں کہ تیری ہی خاطر میں جنت، دنیا اور بہت سی مخلوق پیدا کروں گا۔ اور اس کو تجھے تحفہ کے طور پر دوں گا۔ یہاں تک کہ جو تیری تبریک کرے گا اسے برکت دی جائے گی اور جو تجھ پر لعنت کرے گا اس پر لعنت کی جائے گی۔“ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے علاوہ مولانا عبدالماجد دریابادی وغیرہ نے بھی انجیل برناباس کے ذریعہ موجودہ مسیحیت کی تردید کی ہے اور اس کے بیانات کی بنیاد پر مسلم موقف کو صحیح ثابت کیا ہے۔ مگر علمی اعتبار سے یہ استدلال درست نہیں۔ کیوں کہ استدلال کی بنیاد صرف وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader