چند مثالیں
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح) آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا اُدھر پڑ جائے ۔ انبیاء علیہم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی ہے۔ اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے، ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا ۔“ (صفحہ 682) دیگر انبیاء کے اوپر پیغمبر اسلام کے امتیاز کو ثابت کرنے کے لیے اس عبارت میں ایک مثال کو استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مثال کو بطور دلیل استعمال کیا جا سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کا انسان مثال کو دلیل کا قائم مقام نہیں سمجھتا۔ اس لیے عقلی استدلال کے طالب کے لیے مذکورہ مثال دلیل نہیں بن سکتی۔ اس سے قطع نظر، خود یہ مثال متکلم اور مخاطب کے درمیان کوئی متفق علیہ واقعہ نہیں۔ آج کا ایک انسان ستاروں کو سورج سے چھوٹا نہیں مانتا۔ اور نہ وہ ستاروں کے غائب ہونے یا ڈوبنے کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ دونوں مظاہر موجودہ زمانہ میں اضافی ہیں، نہ کہ واقعی۔ پھر جب پیش کردہ مثال کی واقعیت پر طرفین کا اتفاق نہ ہو تو وہ مخاطب کی نظر میں دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ 6۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (1979ء، 1903ء) کی مشہور کتاب تفہیمات حصہ اول میں ایک مضمون ہے جس کا عنوان ”عقل کا فیصلہ“ ہے۔ اس مضمون کا مقصد رسول کی رسالت کو عقلی دلیل کے ذریعہ ثابت کرنا ہے۔ مگر جو دلیل دی گئی ہے، وہ مذکورہ معیار کے مطابق اعتقادی دلیل ہے، نہ کہ عقلی دلیل۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے ہزاروں سال کے اندر کثرت سے انبیاء آئے۔ ایک طرف یہ ہزاروں انبیاء تھے جن کے درمیان باہمی طور پر کوئی اتصال نہ تھا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader