فکر اسلامی
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
باوجود ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی۔ ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کی دعوت دی ۔ انھوں نے کبھی ایک دوسرے سے مختلف پیغام دنیا کو نہیں دیا۔ اس کے برعکس ، ان کا انکار کرنے والوں کا حال یہ تھا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف باتیں کرتے رہے۔ مدعیان رسالت متحدالخیال تھے اور مکذّ بین رسالت مختلف الخیال۔ اب دونوں فریق کا معاملہ عقل کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ عقل کی عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ متحد الخیال لوگ صحیح ہیں اور ایک سرچشمہ ہدایت سے بول رہے ہیں۔ اگر ان سب کا ایک سرچشمہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان یہ کامل اتفاق ممکن نہ تھا، ان کے مقابلہ میں مختلف الخیال لوگ غلط ہیں۔ ان کا کوئی واحد ذریعہ علم نہیں۔ اسی لیے ہر ایک الگ الگ باتیں کر رہا ہے۔ دور جدید کے صاحب عقل کے لیے یہ دلیل قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اس میں جس چیز کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے وہ صرف متکلم کا عقیدہ ہے، وہ متکلم اور مخاطب دونوں کا مشترک مسلّمہ نہیں۔ جدید انسان اس طرح کے معاملہ میں صرف تاریخ کو معیار مانتا ہے۔ اور تاریخ ان میں سے کسی بات کا بھی ذکر نہیں کرتی۔ مدون انسانی تاریخ میں نہ انبیاء کا کوئی ذکر ہے۔ اور نہ ان کے متحد الخیال ہونے کا۔ اسی طرح تاریخ میں نہ مکذبین انبیاء کا ذکر ہے اور نہ ان کے مختلف الخیال ہونے کا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون (عقل کا فیصلہ) بتاتا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ موجودہ زمانہ میں عقلی استدلال کا معیار کیا ہے۔ انھوں نے نقلی دلیل پر مبنی کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا اور اس کے اوپر عقلی استدلال کا عنوان قائم کر دیا۔ خلاصہ بحث 1 ۔ علماء اسلام کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ انھیں عملی سیاسیات سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader