خلاصہ بحث
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
مکمل طور پر الگ رہنا ہے۔ ان کا اصل کام وہ ہے جو علم وفکر اور دعوت واصلاح کے میدان میں انجام دیا جاتا ہے۔ سیاسی معاملات میں بوقت ضرورت وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر سیاسی معاملات میں عملی حصہ لینا ان کے لیے کسی حال میں درست نہیں۔ 2۔ علما کو مروجۂ دینی تعلیم کے ساتھ لازمی طور پر عصر حاضر کے افکار سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر وہ عصر حاضر میں اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔ 3۔ علما کے یہاں ایک دوسرے کے خلاف تنقید کی کھلی اجازت ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر لوگوں میں ذہنی جمود کا ٹوٹنا اور حکیمانہ بصیرت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ 4۔ علما کے درمیان برداشت کے مزاج کو فروغ دینا چاہیے اور اختلاف کے باوجود اتحاد کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ جب تک ایسا نہ ہو، ملت کے اندر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ 5۔ امت کی تعلیم و تربیت کے ساتھ دوسرا اہم کام جو علما کو انجام دینا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی غیر مسلم قوموں کو دین حق کا پیغام پہنچانا اور اس کے ضروری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو آخری حد تک جاری رکھنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader