الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
الفصل بین القضیتین سعودی گنگ فیصل بن عبدالعزیز (1975-1906) نہایت مدبر حکمران تھے۔ پورے عالم اسلام میں انھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ میں یروشلم جاؤں اور مسجد اقصی میں داخل ہو کر نماز ادا کروں۔ مگر وہ اپنی یہ تمنا پوری نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ان کا آخر وقت آ گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصل مرحوم یہ سمجھتے تھے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ یروشلم (فلسطین) سے یہودیوں کی حکومت ختم ہو کر وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے، اس وقت تک ایسا کرنا ممکن نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا یروشلم پر یہودیوں کے سیاسی قبضہ یا سیاسی غصب کو تسلیم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس ذہنی رکاوٹ کی وجہ سے وہ یروشلم نہیں گئے اور اپنے دل کی تمنا دل ہی میں لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ شاہ فیصل کی کوئی انفرادی رائے نہ تھی۔ بلکہ یہی عام طور پر علماء اسلام کا موقف ہے جس کو انھوں نے اس وقت سے اختیار کر رکھا ہے جبکہ یروشلم پر یہودیوں کا سیاسی قبضہ ہوا۔ 1917 میں یروشلم ترکوں کے ہاتھوں سے نکل کر برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد 1948 میں جزئی طور پر اور 1967 میں کلی طور پر اس کے اوپر یہودیوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس سلسلہ میں مصر کے شیخ الازہر کا ایک فتویٰ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ دوسرے علماء اسلام کی رائے بھی قولا یا عملاً یہی ہے : ”مصر کی قدیم دینی درس گاہ جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ جاد الحق علی جاد الحق نے مصر اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر بیت المقدس اور مسجد اقصی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader