الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ انھوں نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ اور بیت المقدس کی (سیاسی) آزادی تک عام مسلمانوں کا وہاں جانا غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے۔ اس لیے فلسطین اور بیت المقدس کے باسیوں کے سوا دیگر تمام مسلمانوں کو اسرائیل سے (سیاسی) آزادی سے پہلے مسجد الاقصیٰ میں نہیں جانا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مقامات مقدسہ پر اسرائیلی تسلط کو قبول کر لیا ہے۔ جامعۃ الازہر کے مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد حکومت مصر نے اپنے باشندوں کے بیت المقدس جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ “(نوائے وقت، لاہور، 19 ذی الحجہ 1415ھ - 19 مئی 1995ء) یہ ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ ہے، جس کے بارے میں قرآن وسنت کی بنیاد پر کوئی عملی موقف اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ محض ذاتی احساس یا قومی غیرت و حمیت کی بنیاد پر۔ فلسطین اور بیت المقدس پر یقیناً اہلِ اسلام کا حق ہے۔ اس کی آزادی کے لیے ان کو پرامن ذرائع سے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم قرآن وسنت کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے خالص عبادتی مقصد کے تحت ایسے وقت میں بھی اس مقدس مقام کی زیارت ممنوع نہیں جب کہ وہاں غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی اعتراف نے بھی علی الاطلاق طور پر اس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مگر مذکورہ قسم کے فتاویٰ کی بنا پر دنیا کے مسلمان نسل در نسل اس عظیم سعادت سے محروم ہو رہے ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوں اور تیسرے سب سے افضل مقام پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔ اگست 1995 میں یروشلم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کا اہتمام اٹلی کے عیسائیوں کی ایک جماعت نے کیا تھا۔ اور اس کا موضوع یہی خاص مسئلہ تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader