Urdu book · فکر اسلامی

الفصل بین القضیتین

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

کی دعوت پر راقم الحروف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر ایک مقالہ (انگریزی میں) پیش کیا۔ اس کا عنوان اسلام میں امن تھا: Policy of Peace in Islam اس مقالہ کو (اردو میں) ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ قرآن اپنے بتائے ہوئے طریقہ کو سبل السلام (5:16) کہتا ہے۔ یعنی امن کے راستے۔ قرآن میں صلح کی پالیسی کو سب سے بہتر پالیسی بتایا گیا ہے (4:128)۔ نیز فرمایا کہ خدا بدامنی کو پسند نہیں کرتا (2:205)۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2627)۔ یعنی، مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک عملی سوال یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ کسی نہ کسی سبب سے لوگوں کے درمیان سیاسی یا غیر سیاسی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ افراد میں بھی اور قوموں میں بھی۔ مسلمانوں کے اپنے اندر بھی اور مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان بھی۔ اب اگر لوگ اختلافات کو برداشت نہ کریں، بلکہ اختلافات کے پیدا ہوتے ہی اس کے خاتمہ پر اصرار کر کے تولڑائی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ ایسی حالت میں سوال ہے کہ امن کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔ اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یلیپینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ یروشلم تین بڑے مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لیے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page