Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد کی اہمیت

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر سوچا ( دیکھیے ، سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 319-309 )۔ آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔ حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے ۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق ، اس وقت یہ ٹکراؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دیئے۔ اس کا نتیجہ ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق ، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لیے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لیے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھا دے (48:20) ۔ گویا حدیبیہ کا معاملہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے اجتہاد کلی کا ایک معیاری نمونہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں دوبارہ مسلمانوں کو اجتہاد کلی کی ضرورت ہے۔ یہ اجتہاد کلی ان کے لیے گویا ایک برتر حل (superior solution) ثابت ہوگا۔ وہ اسی طرح ان کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن بن جائے گا جس طرح دورِ اول میں حدیبیہ کا معاملہ اسلام کی تاریخ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا تھا۔ پچھلی صدیوں میں برصغیر ہند میں ، نیز پوری مسلم دنیا میں ، مسلم رہنماؤں نے بار بار بڑے بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں غیر معمولی جانی و مالی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر یہ تمام اقدامات مکمل طور پر بے نتیجہ رہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام اقدامات جزئی اجتہاد کی بنیاد پر کیے گئے ۔ جب کہ حالات کا تقاضا تھا کہ کلی اجتہاد والی بصیرت کے تحت فیصلہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page