الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لیے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور ان کی قومی تاریخ کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یادگار ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔ اس طرح ان تینوں مذاہب کے لیے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آکر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لیے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لیے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔ آج کل ہر طرف ’’اَلْقُدْسُ لَنَا‘‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔ اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیونکہ کسی مقام پر سیاسی اقتدار پر ایک وقت کسی ایک مذہبی گروہ کا ہی ہو سکتا ہے۔ پھر بقیہ دو مذہبی گروہ جن کا سیاسی قبضہ وہاں نہ ہوگا وہ قابض گروہ کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ اس طرح یہ مقام ابدی طور پر جنگ و جدال کا مرکز بنارہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader