الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
اس بنا پر کسی کے لیے، حتّیٰ کہ قابض گروہ کے لیے بھی یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پرسکون طور پر وہاں اپنا عبادتی عمل انجام دے سکے۔ یروشلم کے معنی ہی امن کا شہر (city of peace) کے ہیں۔ پھر کیوں کر ایسا ہو کہ یروشلم کا امن ہر حال میں برقرار رہے تا کہ ہر فریق ہمیشہ اور یکساں طور پر اس کی زیارت کر سکے۔ جہاں تک اسلام کا سوال ہے، قرآن و حدیث میں یروشلم کے دوبالواسطہ حوالے ملتے ہیں۔ قرآن کی سورہ الاسراء میں معراج رسول کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں (1:17)۔ روایات بتاتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے غالباً 622ء کے آغاز میں پیغمبر اسلام کو ایک غیر معمولی سفر کا تجربہ ہوا جس کو اسلام کی تاریخ میں اسراء اور معراج کہا جاتا ہے۔ اس سفر میں خدا کے غیبی اہتمام کے تحت آپ مکہ سے یروشلم پہنچے۔ یہاں آپ نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز ادا کی۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان 800 میل کا فاصلہ ہے۔ یروشلم کا دوسرا بالواسطہ حوالہ وہ ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ البخاری، مسلم، ابو داؤد، النسائی، الترمذی، الموطا وغیرہ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لیے سفر کر کے جانا جائز ہے۔ مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ آخری مسجد کے لیے بعض روایات میں مسجد ایلیاء کا لفظ ہے۔ یعنی فلسطین کی مسجد۔ دوسری روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان تین مسجدوں میں عبادت کرنے کا ثواب دنیا کی دوسری تمام مسجدوں سے بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف یروشلم کی مسجد اقصیٰ کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں عبادت کرنا مکہ اور مدینہ کی مسجد کے بعد سب سے زیادہ افضل ہے۔ دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader