الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ــ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں: وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140) ـ اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یروشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لیے مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی صورت کیا ہو۔ ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں داخل ہو کر سجدہ کرے جہاں پیغمبر اسلام نے اور دوسرے تمام نبیوں نے سجدہ کیا۔ اب اگر اس عبادت کو سیاسی اقتدار سے جوڑا جائے اور یہ کہا جائے کوئی مسلمان صرف اس وقت مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے جب کہ اس علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت بھی قائم ہو تو ملینوں مسلمان، سابق سعودی حکمراں فیصل بن عبدالعزیز کی طرح اپنے سینہ میں یہ تمنا لیے ہوئے مر جائیں گے اور اس قیمتی احساس کا تجربہ نہ کر سکیں گے کہ آج میں اس مقام پر خدائے برتر کے لیے سجدہ کر رہا ہوں جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ سجدہ توحید ادا کیا۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ اس کا حل خود پیغمبر اسلام کی سنت میں موجود ہے۔ اس سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ ــ معاملہ کے سیاسی پہلو کو الگ رکھتے ہوئے اس کے عبادتی پہلو کو لے لینا مسئلہ کو نظر انداز کر کے امکان کو استعمال کرنا۔ اس سنت کو ہم نے الْفَصْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ کا نام دیا ہے۔ رسول اللہ کی یہ سنت حسب ذیل واقعات سے معلوم ہوتی ہے۔ 1ـ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جولائی 622ء میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ یہاں آپ تقریباً ڈیڑھ سال (623 کے آخر تک) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader