Urdu book · فکر اسلامی

عمومی انطباق

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نوعیت کے تباہ کن اقدامات کی مثالیں کشمیر، چیچنیا، بوسنیا، برما، فلپائن، مصر، الجزائر وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان علاقوں میں اسلام کے نام پر جو عملی اقدام کیا گیا وہ صرف تباہی میں اضافہ کا سبب بنا۔ وہ کسی بھی اسلامی نتیجہ تک پہنچانے والا ثابت نہیں ہوا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ معاشرہ میں قبولیت کا مادہ نہ پایا جاتا ہو۔ اس لیے بظاہر عملی کامیابی کے باوجود تمام قربانیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں۔ اس معاملہ کی مثالیں پاکستان اور افغانستان اور ایران میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان ملکوں میں ہنگامہ خیز اقدامات کے ذریعہ سیاسی تبدیلی لائی گئی۔ تا کہ مذہب اور حکومت کو ایک کیا جا سکے ۔ مگر حقیقی نتیجہ کیا ہوا ۔ جب سیاسی تبدیلی وقوع میں آ چکی تو معلوم ہوا کہ مذہب اور سیاست کی یکجائی والا مطلوب نظام بنانا ممکن ہی نہیں۔ کیوں کہ معاشرہ اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔ پاکستان اسی قسم کے نعرہ پر بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہاں خود غرضی ، مادہ پرستی اور باہمی جھگڑوں کا راج قائم ہو گیا نہ کہ اسلام کا راج۔ اسی طرح افغانستان میں بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ سیاسی حکمرانوں کو بدلا گیا ۔ مگر جب سیاسی نشانہ حاصل ہو چکا تو اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ افغانستان کے مختلف قبائلی لیڈر آپس میں لڑ کر پورے ملک کو تباہ کرنے کا ذریعہ بن گئے ۔ اسی طرح ایران میں عالمی شور وغل کے تحت سیاسی تبدیلی لائی گئی۔ اس تبدیلی کو ایک عرصہ تک پروپیگنڈے کے زور پر اسلامی ثابت کیا جاتا رہا۔ مگر جب پروپیگنڈے کا زور گھٹا تو معلوم ہوا کہ ایران میں چونکہ مطلوب انداز کا معاشرہ تیار نہ تھا اس لیے نام نہاد انقلاب نے ملک کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ یہ مثالیں خلیفہ چہارم حضرت علی کے ایک قول کو یاد دلاتی ہے ۔ ان کے زمانہ خلافت میں اسلامی دنیا میں زبردست خلفشار بر پا ہو گیا۔ ان سے کسی نے کہا کہ ابو بکر و عمر کے زمانہ میں مسلم دنیا کے حالات درست تھے، آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے ۔ اس کا سبب کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page