اجتہاد کی اہمیت
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
جزئی اجتہاد یا جزئی استنباط کی بنیاد کسی حکم شرعی پر قائم ہوتی ہے۔ جب کہ کلی اجتہاد یا کلی استنباط مجموعی شرعی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت صہیب رومی جب مکہ سے ہجرت کر رہے تھے تو ان کے پاس کچھ دینار موجود تھے۔ قریش کے کچھ نوجوانوں نے ان کا راستہ روکا اور کہا کہ ہم ان دیناروں کو لے کر تمہیں مدینہ جانے نہیں دیں گے (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 3، صفحہ 209)۔ اس وقت اگر حضرت صہیب رومی اس حدیث کو یاد کرتے کہ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيْدٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 590) ـــــ یعنی، جو اپنے مال کے لیے قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے ـــــ اور اپنے مال کو بچانے کے لیے قریش کے نوجوانوں سے لڑ جاتے تو یہ جزئی استنباط ہوتا۔ مگر انھوں نے وسیع تر اسلامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام دینار قریش کے نوجوانوں کے حوالے کر دیئے۔ انھوں نے مال کو بچانے کی فکرمیں کی، بلکہ اپنی جان کو بچا کر مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ ان کی یہ روش کلی استنباط کی ایک مثال تھی۔ موجودہ زمانے میں مسلم دنیا میں بڑے بڑے اقدامات کیے گئے، وہ سب کسی نہ کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر کیے گئے۔ مگر یہ سب جزئی استنباطات تھے، جب کہ اس زمانہ میں مجموعی اسلامی مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے کلی استنباط کی ضرورت تھی۔ اس کوتاہی کی بنا پر ان کا استنباط یا اجتہاد، اجتہادی خطا کی مثال بن گیا۔ اورنگ زیب عالمگیر نے مختلف طاقتوں سے ٹکراؤ کیا تو اس کے سامنے اسلام کا صرف یہ حکم تھا کہ اسلام دشمن طاقتوں کو زیر کرو۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی نے مہرٹوں کے خلاف جہاد کی اسکیم بنائی۔ سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کیا۔ علماء دیوبند نے انگریزوں سے جہاد بالسیت کیا۔ اس طرح کے تمام واقعات اسلام کے حکم ــــ دشمنوں کا مقابلہ کرو سے مستنبط کیے گئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader