Urdu book · فکر اسلامی

عصرِ جدید کا مذہب

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری نسخہ دریافت کر لیا ہے۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ اس خوش حال اور پرامن دنیا کی تعمیر ممکن ہوگئی ہے جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھ رہا تھا۔ مگر سائنس کے عملی استعمال کے بعد سارا خواب بکھر گیا۔ سائنس ظاہری طور پر ترقیوں کا دور لے آئی۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے پہلے سے بھی زیادہ بڑے بڑے مسائل پیدا کر دیے ۔ ان جدید مسائل نے پرسکون دنیا کی تعمیر کو نا ممکن بنا دیا۔ مزید یہ کہ سائنس نے جنگ کی تخریب کاری کو ناقابلِ قیاس حد تک بڑھا دیا۔ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ تمام تر جدید ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ تھی جس نے ساری دنیا کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا جو دورِ قدیم کی ساری فوجیں مل کر بھی نہیں پہنچا سکتی تھیں۔ اس تلخ تجربہ کے بعد اب ساری دنیا میں ”مذہب کی طرف واپسی“ کا ایک نیا عمل شروع ہو گیا ہے۔ لوگ عام طور پر از سرِ نو مذہب کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں۔ تاہم وہ کسی امن پسند مذہب ہی کو قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ جنگ کی تعلیم دینے والا مذہب ان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ کیوں کہ ایسا مذہب جدید حالات میں سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ میں جنگ کا تصور کامل طور پر بدل گیا ہے۔ اب جدید ہتھیاروں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ جنگ کا نتیجہ کسی کے حق میں مفید صورت میں برآمد ہو۔ اب جنگ طرفین کے لیے صرفِ کامل تباہی کے ہم معنی ہے۔ آج کا انسان اس کو خارج از بحث قرار دے چکا ہے کہ کسی مثبت مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ اور تشدد کا طریقہ استعمال کیا جائے ۔ ہٹلر جدید تاریخ کا سب سے بڑا جنگ باز آدمی تھا۔ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے مل کر ساری دنیا کو بذریعہ طاقت مسخر کرنے کے لیے وہ عظیم جنگ چھیڑی جو سکینڈ ورلڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page