Urdu book · فکر اسلامی

عصرِ جدید کا مذہب

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

وار کے نام سے مشہور ہے۔ اس طرح ہٹلر نے جنگ کے ذریعہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مشینی دور کا سب سے بڑا تجربہ کیا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے کہ اس تجربہ کا آخری نتیجہ، دنیا کے حق میں اور خود ہٹلر کے حق میں کامل تباہی کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے تباہ کن انجام کو دیکھنے کے بعد ہٹلر کو ہوش آگیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ جدید مشینی انقلاب کے بعد کس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کا طریقہ آخری حد تک بے فائدہ ہو چکا ہے۔ اس نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ جدید جنگ میں اب کوئی فاتح نہیں ہوگا ۔ جو ہوگا وہ صرف یہ کہ کچھ لوگ مرنے سے بچ جائیں گے: “In a modern war there are no victors, only survivors.” The Book of Knowledge, vol 7, p.498 1917ء سے پہلے جب کمیونسٹ لیڈر اپنے نظام کو نافذ کرنے کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس وقت وہ جنگ اور ہتھیار کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں نوجوان اسٹالن نے اپنی تقریر میں کہا تھا: اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول اسلحہ، دوم اسلحہ، سوم اسلحہ، اور آخر میں پھر اسلحہ۔ چنانچہ سابق سوویت یونین میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کمیونسٹ لیڈر شپ نے سب سے زیادہ طاقت اس پر صرف کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہتھیار اکٹھا کر لیں تاکہ اس کے زور پر ساری دنیا میں اپنا مطلوب اشتراکی نظام قائم کر سکیں۔ 1991ء جب سوویت یونین اپنے آخری عروج پر تھا، اس کے پاس 29 ہزار کی تعداد میں چھوٹے بڑے ایٹم بم موجود تھے۔ ان کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ سارے یورپ کو اور سارے امریکہ کو بیک وقت تباہ کر سکتے تھے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا، لیکن وہ اپنے ہتھیاروں کو اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال نہ کر سکا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ دوسروں کے پاس بھی اسی قسم کے مہلک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page