عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
بم موجود تھے ۔ سوویت یونین جب اپنے ہتھیاروں کو استعمال کر کے اپنے دشمنوں کو مٹاتا تو عین اسی وقت اس کا دشمن بھی اس کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو استعمال کر کے اس کے وجود کو مٹا چکے ہوتے ۔ سوویت یونین کے لیڈر خوش قسمتی سے اتنے نادان نہ تھے کہ ایسا جنگی اقدام کریں جس کا نتیجہ صرف دو طرفہ خود کشی کے ہم معنی ثابت ہو۔ اس نئی صورت حال نے سارے معاملے کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب اسلام کو فکری سطح پر جو چیلنج درپیش ہے وہ حقیقتاً منطقی ہے اور نہ سائنسی ۔ آج کا فکری چیلنج یہ ہے کہ کیا اسلام کو ایک بے تشدد مذہب ثابت کیا جا سکتا ہے، کیا اسلام پر امن آئیڈیالوجی کے جدید معیار پر پورا اترتا ہے۔ جدید انسان ہر چیز سے مایوس ہو کر مذہب کی طرف واپس آرہا ہے ۔ اس سلسلہ میں اس نے تمام مذاہب کا علمی اور تاریخی جائزہ لیا۔ مگر اس نے پایا کہ بڑے بڑے مذاہب تاریخ کے معیار پر پورے نہیں اترتے ۔ ان کے بارے میں کوئی بات بھی علمی طور پر ثابت شدہ نہیں ۔ اس طرح یہ مذاہب اپنا تاریخی اعتبار کھو چکے ہیں۔ اب میدان میں صرف ایک مذہب ہے، اور وہ اسلام ہے۔ اسلام مکمل طور پر تاریخ کے معیار پر پورا اترتا ہے وہ ہر پہلو سے ایک معتبر مذہب ہے، مگر انسان جب اسلام کی طرف آتا ہے تو وہ ایک بات سے سخت الرجک ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے پیروؤں نے اسلام کو ایک جنگی مذہب کا روپ دے رکھا ہے۔ آج کا انسان اسلام کو چاہتا ہے، مگر وہ ایسے اسلام کو قبول نہیں کر سکتا جو اس کو دوبارہ اسی جنگ کی تعلیم دے جس سے وہ آخری حد تک بیزار ہو چکا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور انسان دونوں کی تاریخ اٹکی ہوئی ہے۔ آج دونوں کا مستقبل اسی ایک سوال سے وابستہ ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader